بنگلورو، 9/جون (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں نوتشکیل کانگریس حکومت نے بی جے پی کے کچھ ایسے فیصلوں کو بدلنے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے جس سے پارٹی کا نظریاتی اختلاف رہا ہے۔ ایسا ہی ایک منصوبہ اسکولی نصاب کو لے کر بھی ہے اور ذرائع کی مانیں تو اس منصوبہ میں آر ایس ایس بانی کیشو بلیرام ہیڈگوار کو اسکولی نصاب سے ہٹانا بھی شامل ہے۔
کانگریس کے قداور لیڈر بی کے ہری پرساد نے اپنے ایک بیان میں آر ایس ایس کے بانی ہیڈگوار کو بزدل اور نقلی مجاہد آزادی قرار دیا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان کے جیسے اشخاص کی لائف اسٹوری بچوں کے نصاب میں کبھی شامل نہیں کریں گے۔ کانگریس لیڈر کے اس بیان کو لے کر بی جے پی اور ہندوتوا نظریات رکھنے والے لیڈروں نے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔
کانگریس نے جیسے ہی کرناٹک میں اقتدار سنبھالا، سابقہ بی جے پی حکومت کے فیصلوں کو بدلنے کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا۔ اس ضمن میں سدارمیا حکومت اسکولی کتابوں سے کچھ حصوں کو ہٹانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ وہی حصے ہیں جو بی جے پی حکومت میں نصابوں میں شامل کیے گئے تھے۔ ان میں آر ایس ایس بانی کیشو بلیرام ہیڈگوار کی لائف اسٹوری بھی شامل ہے۔
بی کے ہری پرساد کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہیڈگوار مجاہد آزادی تھے۔ کانگریس لیڈر نے انھیں بزدل اور نقلی مجاہد آزادی بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی زندگی پر مبنی حصے کو کبھی بچوں کے نصاب میں شامل نہیں کریں گے۔ شیموگہ میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہری پرساد نے زور دے کر کہا کہ آر ایس ایس سمیت ہندوتوا تنظیموں کے کنبوں کے نظریات کو کسی بھی سرکاری محکمہ کے کام پر اثر ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے ان اشخاص کو بھی احترام دینے سے انکار کر دیا جن کے بارے میں ان کو لگتا ہے کہ وہ انگریزوں سے رحم کا مطالبہ کرتے ہوئے مجاہد آزادی ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔
اس تعلق سے کرناٹک حکومت میں وزیر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے لوگوں کی کہانیاں ہونی چاہیئے جنھوں نے حقیقی معنوں میں ملک کی تعمیر میں تعاون کیا ہے۔ ان کے مطابق جب بھی تحریک آزادی کی بات ہوتی ہے تو تاریخ کو ان لوگوں کے نام سے یاد رکھنے چاہئیے جنھوں نے حقیقی معنوں میں اس میں حصہ لیا، نہ کہ ان لوگوں کے نام جو کسی کی ذاتی پسند ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اپنے نظریاتی ایشوز کو بچوں کی کتابوں میں ڈالنے کی کوشش کی ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔